بے عبرتوں نے لے کر خاک ان کی گھر بنائے

دیوان ششم غزل 1900
جو لوگ آسماں نے یاں خاک کر اڑائے
بے عبرتوں نے لے کر خاک ان کی گھر بنائے
رہنے کی کوئی جاگہ شاید نہ تھی انھوں کی
جو یاں سے اٹھ گئے ہیں وے پھر کبھو نہ آئے
لڑکے برہمنوں کے صندل بھری جبینیں
ہندوستاں میں دیکھے سو ان سے دل لگائے
ہر اک صنم کدہ کیا کافر جگہ ہے ہم نے
قشقے بھی یاں کھنچائے زنار بھی بندھائے
پامال لوگ کیا کیا آگے ہوئے ہیں تم سے
اس پر بھی تم جو آئے یاں تم نے سر اٹھائے
کیا گھورتے ہو ہر دم ڈرتے نہیں ہیں کچھ ہم
جن آنکھوں پر ہیں عاشق ان آنکھوں کے دکھائے
آہ شرر فشاں جو نکلے ہے منھ سے ہر دم
روشن ہے میر غم نے قلب و کبد جلائے
میر تقی میر