بیتاب دل کا مرگ کہیں مدعا نہ ہو

دیوان ششم غزل 1867
چاہت میں خوبرویوں کی کیا جانے کیا نہ ہو
بیتاب دل کا مرگ کہیں مدعا نہ ہو
بے لاگ عشق بازی میں مفلس کا ہے ضرر
کیا کھیلے وہ جوا جسے کچھ آسرا نہ ہو
کرتے دعا مجھے وہ دغاباز دیکھ کر
بولا کہ اس فقیر کے دل میں دغا نہ ہو
آزاد پرشکستہ کو صد رنگ قید ہے
یارب اسیر ایسا قفس سے رہا نہ ہو
دوری مہ سے کبک ہیں کہسار میں خراب
دلبر سے اپنے کوئی الٰہی جدا نہ ہو
کھولے ہے آنکھ اس کے گل رو پہ ہر سحر
غالب کہ میری آئینے کی اب صفا نہ ہو
آہوں کے میری دود سے گھر بھر گیا ہے سب
سدھ ہمنشیں لے دل کی کہیں وہ جلا نہ ہو
ہم گر جگر نکال رکھیں اس کے زیر پا
بے دید کی ادھر سے نظر آشنا نہ ہو
رہتے ہیں میر بے خود و وارفتہ ان دنوں
پوچھو کنایۃً کسو سے دل لگا نہ ہو
میر تقی میر