بہ خدا با خدا رہا ہوں میں

دیوان ششم غزل 1857
گو کہ بت خانے جا رہا ہوں میں
بہ خدا با خدا رہا ہوں میں
سب گئے دل دماغ تاب و تواں
میں رہا ہوں سو کیا رہا ہوں میں
برق تو میں نہ تھا کہ جل بجھتا
ابر تر ہوں کہ چھا رہا ہوں میں
اس کی بیگانہ وضعی ہے معلوم
برسوں تک آشنا رہا ہوں میں
دیکھو کب تیغ اس کی آبیٹھے
دیر سے سر اٹھا رہا ہوں میں
اس کی گرد سمند کا مشتاق
آنکھیں ہر سو لگا رہا ہوں میں
دور کے لوگ جن نے مارے قریب
اس کے ہمسائے آرہا ہوں میں
مجھ کو بدحال رہنے دیں اے کاش
بے دوا کچھ بھلا رہا ہوں میں
دل جلوں کو خدا جہاں میں رکھے
یا شقائق ہے یا رہا ہوں میں
کچھ رہا ہی نہیں ہے مجھ میں میر
جب سے ان سے جدا رہا ہوں میں
میر تقی میر