بدزبانی بھی کی ان نے تو کہا بسیار خوب

دیوان ششم غزل 1814
اس مغل زا سے نہ تھی ہر بات کی تکرار خوب
بدزبانی بھی کی ان نے تو کہا بسیار خوب
لگ نہیں پڑتے ہیں لے کر ہاتھ میں شمشیر تیز
بے کسوں کے قتل میں اتنا نہیں اصرار خوب
آخر ان خوباں نے عاشق جان کر مارا مجھے
چاہ کا اپنی نہ کرنا ان سے تھا اظہار خوب
آج کل سے مجھ کو بیتابی و بدحالی ہے کیا
مجھ مریض عشق کے کب سے نہ تھے آثار خوب
کیا کریمی اس کی کہیے جنت دربستہ دی
ورنہ مفلس غم زدوں کے کچھ نہ تھے کردار خوب
مخترع جور و ستم میں بھی ہوا وہ نوجواں
ظلم تب کرتا ہے جب ہو کوئی منت دار خوب
دہر میں پستی بلندی برسوں تک دیکھی ہے میں
جب لٹا پامالی سے میں تب ہوا ہموار خوب
کیا کسو سے آشنائی کی رکھے کوئی امید
کم پہنچتا ہے بہم دنیا میں یارو یار خوب
کہتے تھے افعی کے سے اے میر مت کھا پیچ و تاب
آخر اس کوچے میں جا کھائی نہ تو نے مار خوب
میر تقی میر