آسماں تک سیاہ کرتے تھے

دیوان ششم غزل 1901
ہم کبھو غم سے آہ کرتے تھے
آسماں تک سیاہ کرتے تھے
اے خوشا حال اس کا جس کا وے
حال عمداً تباہ کرتے تھے
برسوں رہتے تھے راہ میں اس کی
تب کچھ اک اس سے راہ کرتے تھے
نیچی آنکھیں ہم اس کو دیکھا کیے
کبھو اونچی نگاہ کرتے تھے
ہے جوانی کہ موسم گل میں
جاے طاعت گناہ کرتے تھے
کیا زمانہ تھا وہ جو گذرا میر
ہم دگر لوگ چاہ کرتے تھے
میر تقی میر