اس طور اس طرح کے ایسے کم آشنا ہیں

دیوان ششم غزل 1854
ناآشنا کے اپنے جیسے ہم آشنا ہیں
اس طور اس طرح کے ایسے کم آشنا ہیں
باہم جو یاریاں ہیں اور آشنائیاں ہیں
سب ہیں نظر میں اپنی ہم عالم آشنا ہیں
ماتم کدہ ہے تکیہ کیا تازہ کچھ ہمارا
یک جا فقیر کب سے ہم سب غم آشنا ہیں
تحریر راز دل کی مشکل ہے کیونکے کریے
کاغذ قلم ہمارے کب محرم آشنا ہیں
یاری جہانیوں کی کیا میر معتبر ہے
ناآشنا ہیں یک دم یہ اک دم آشنا ہیں
میر تقی میر