یہ کیا روش ہے آئو چلے ٹک ادھر کبھو

دیوان سوم غزل 1222
تم بن چمن کے گل نہیں چڑھتے نظر کبھو
یہ کیا روش ہے آئو چلے ٹک ادھر کبھو
دریا سی آنکھیں بہتی ہی رہتی تھیں سو کہاں
ہوتی ہے کوئی کوئی پلک اب تو تر کبھو
جی جانے ہے جو اپنے پہ ہوتی ہے مار مار
جاتے ہیں اس گلی میں کہاں ہم مگر کبھو
آنکھیں سفید ہو چلی ہیں راہ دیکھتے
یارب انھوں کا ہو گا ادھر بھی گذر کبھو
مدت ہوئی ہے نامہ کبوتر کو لے گئے
آجاتی ہے کچھ اڑتی سی ہم تک خبر کبھو
ہم جستجو میں ان کی کیے دست و پا بھی گم
افسوس ہے کہ آئے نہ وہ راہ پر کبھو
غم کو تمھارے دل کے نہایت نہیں ہے میر
اس قصے کو کروگے بھی تم مختصر کبھو
میر تقی میر