یہ ویراں آشیانے دیکھنے کو ایک میں چھوٹا

دیوان اول غزل 127
گئے قیدی ہو ہم آواز جب صیاد آ لوٹا
یہ ویراں آشیانے دیکھنے کو ایک میں چھوٹا
مرا رنگ اڑ گیا جس وقت سنگ محتسب آگے
بغل سے گر پڑا مینا و ساغر چور ہو پھوٹا
مرا وعدہ ہی آپہنچا ترے آنے کے وعدے تک
ہوا میں موت سے سچا رہا اے شوخ تو جھوٹا
کف جاناں سے کیا امکاں رہائی میر کوئی ہو
اچنبھا ہے جو اس کے ہاتھ سے رنگ حنا چھوٹا
میر تقی میر