یہ حرکت تو ہم نہ کریں گے خانہ سیاہ دروغ دروغ

دیوان پنجم غزل 1649
ہم کو شہر سے اس مہ کے ہے عزم راہ دروغ دروغ
یہ حرکت تو ہم نہ کریں گے خانہ سیاہ دروغ دروغ
الفت کلفت کون کہے ہے چاہ گناہ لکھا کن نے
بے دردی سے وے رکھتے ہیں یہی گناہ دروغ دروغ
شیخ کو وہ تو جھوٹ کہے ہے جھوٹ کو کیوں کر جھوٹ گنیں
اہل درد جو کوئی ہو تو کہیے آہ دروغ دروغ
عشق کے مارے غمزدگاں سے انس کرے بہتان و کذب
اس بے مہر کی ہم لوگوں سے الفت چاہ دروغ دروغ
کس دلبر کو شوق سے دیکھا میر غلط ہے تہمت ہے
منھ پہ کسو کے پڑی نہیں ہے گاہ نگاہ دروغ دروغ
میر تقی میر