یہی حال ہمیشہ رہا کیا تو مآل پر بھی نظر کرو

دیوان پنجم غزل 1717
مژہ وا کرو تمھیں غش ہے کیا کبھو حال پر بھی نظر کرو
یہی حال ہمیشہ رہا کیا تو مآل پر بھی نظر کرو
کہیں دل بھی ان کے اٹکتے ہیں جنھیں شوق میں ہے کمال کچھ
ہوئے ہو جو رفتہ خرام کے تو جمال پر بھی نظر کرو
نہ بنے جو دلبر سادہ تو نہ بھلا لگے مری آنکھوں میر
نہیں سادگی ہی میں لطف کچھ خط و خال پر بھی نظر کرو
میر تقی میر