یہی بے طاقتی خوں گشتہ دل کو میرے کد سے ہے

دیوان سوم غزل 1297
نہ جرأت ہے نہ جذبہ ہے نہ یاری بخت بد سے ہے
یہی بے طاقتی خوں گشتہ دل کو میرے کد سے ہے
جہاں شطرنج بازندہ فلک ہم تم ہیں سب مہرے
بسان شاطرنو ذوق اسے مہروں کی زد سے ہے
سخن کرنے میں نستعلیق گوئی ہی نہیں کرتا
پڑھیں ہیں شعر کوئی ہم سو وہ بھی شد و مد سے ہے
ہوا سرسبز آگے یار کے سرو گلستاں کب
کہ نسبت دور کی طوبیٰ کو اس کے نخل قد سے ہے
لکھا کب تک کریں اس سرزمیں سے آپھی اب جاویں
ہمیں ملنے کا شوق اس کے زیاد اے میر حد سے ہے
میر تقی میر