یک جان و صد تمنا یک دل ہزار خواہش

دیوان دوم غزل 826
کیا کہیے کیا رکھیں ہیں ہم تجھ سے یار خواہش
یک جان و صد تمنا یک دل ہزار خواہش
لے ہاتھ میں قفس ٹک صیاد چل چمن تک
مدت سے ہے ہمیں بھی سیر بہار خواہش
نے کچھ گنہ ہے دل کا نے جرم چشم اس میں
رکھتی ہے ہم کو اتنا بے اختیار خواہش
حالانکہ عمر ساری مایوس گذری تس پر
کیا کیا رکھیں ہیں اس کے امیدوار خواہش
غیرت سے دوستی کی کس کس سے ہوجے دشمن
رکھتا ہے یاری ہی کی سارا دیار خواہش
ہم مہرورز کیونکر خالی ہوں آرزو سے
شیوہ یہی تمنا فن و شعار خواہش
اٹھتی ہے موج ہر یک آغوش ہی کی صورت
دریا کو ہے یہ کس کا بوس و کنار خواہش
صد رنگ جلوہ گر ہے ہر جادہ غیرت گل
عاشق کی ایک پاوے کیونکر قرار خواہش
یک بار بر نہ آئی اس سے امید دل کی
اظہار کرتے کب تک یوں بار بار خواہش
کرتے ہیں سب تمنا پر میر جی نہ اتنی
رکھے گی مار تم کو پایان کار خواہش
میر تقی میر