یعنی کہ فرط شوق سے جی بھی ادھر چلا

دیوان دوم غزل 686
میں غش کیا جو خط لے ادھر نامہ بر چلا
یعنی کہ فرط شوق سے جی بھی ادھر چلا
سدھ لے گئی تری بھی کوئی زلف مشک بو
گیسوے پیچدار جو منھ پربکھر چلا
لڑکا ہی تھا نہ قاتل ناکردہ خوں ہنوز
کپڑے گلے کے سارے مرے خوں میں بھر چلا
اے مایۂ حیات گیا جس کنے سے تو
آفت رسیدہ پھر وہ کوئی دم میں مر چلا
تیاری آج رات کہیں رہنے کی سی ہے
کس خانماں خراب کے اے مہ تو گھر چلا
دیکھوگے کوئی گوشہ نشیں ہو چکا غریب
تیرمژہ اس ابرو کماں کا اگر چلا
بے مے رہا بہار میں ساری ہزار حیف
لطف ہوا سے شیخ بہت بے خبر چلا
ہم سے تکلف اس کا چلا جائے ہے وہی
کل راہ میں ملا تھا سو منھ ڈھانپ کر چلا
یہ چھیڑ دیکھ ہنس کے رخ زرد پر مرے
کہتا ہے میر رنگ تو اب کچھ نکھر چلا
میر تقی میر