یعنی چشم شوق لگی رہتی ہے شگاف در کے ساتھ

دیوان پنجم غزل 1721
جان چلی جاتی ہے ہماری اس کی اور نظر کے ساتھ
یعنی چشم شوق لگی رہتی ہے شگاف در کے ساتھ
شاہد عادل عشق کے دونوں پاس ہی حاضر ہیں یعنی
پہروں پہروں خشک لبی رہتی ہے چشم تر کے ساتھ
آنا اس کا ظاہر ہے پر مژدہ لایا یاں نہ کرو
جی ہی نکل جاوے گا اپنا یوں ہی ذوق خبر کے ساتھ
کیا رو ماہ و خور کو لیکن جھمکا اس کا دکھا دوں ہوں
روز و شب کچھ ضد سی ہوئی ہے مجھ کو شمس و قمر کے ساتھ
سینہ خالی آج پڑا ہے میر طرف سے پہلو کے
دل بھی شاید نکل گیا ہے روتے خون جگر کے ساتھ
میر تقی میر