یعنی تمھاری ہم سے وے آنکھیں نہیں رہیں

دیوان اول غزل 310
اب کچھ ہمارے حال پہ تم کو نظر نہیں
یعنی تمھاری ہم سے وے آنکھیں نہیں رہیں
اس بزم کے چراغ بجھے تھے جو یار میر
ان کے فروغ باغ میں گل ہیں کہیں کہیں
میر تقی میر