یا کہ نوشتہ ان ہاتھوں کا قاصد ہم تک لاوے گا

دیوان پنجم غزل 1548
آج ہمارا دل تڑپے ہے کوئی ادھر سے آوے گا
یا کہ نوشتہ ان ہاتھوں کا قاصد ہم تک لاوے گا
ہم نہیں لکھتے اس لیے اس کو شوخ بہت ہے وہ لڑکا
خط کا کاغذ بادی کرے گا بائو کا رخ بتلاوے گا
رنج بہت کھینچے تھے ہم نے طاقت جی کی تمام ہوئی
اپنے کیے پر یاد رہے یہ وہ بھی بہت پچھتاوے گا
اندھے سے ہم چاہ میں اس کی گو اے ناصح پھرتے ہیں
سوجھتا بھی کچھ کر آئیں گے کیا تو ہم کو سجھاوے گا
عاشق ہووے وہ بھی یارب تا کچھ اس سے کہا جاوے
یعنی حال سنے گا دل سے دل جو کسی سے لگاوے گا
عاشق کی دلجوئی کی بھی راہ و رسم سے واقف رہ
ہو جو ایسا گم شدہ اپنا اس کو نہ تو پھر پاوے گا
آنکھیں موندے یہ دلبر جو سوتے رہیں تو بہتر ہے
چشمک کرنا ایک انھوں کا سو سو فتنے جگاوے گا
کیا صورت ہے کیا قامت ہے دست و پاکیا نازک ہیں
ایسے پتلے منھ دیکھو جو کوئی کلال بناوے گا
چتون بے ڈھب آنکھیں پھریں ہیں پلکوں سے بھی نظر چھوٹی
عشق ابھی کیا جانیے ہم کو کیا کیا میر دکھاوے گا
میر تقی میر