یا لوہو اشک خونی سے منھ پر بہائے گا

دیوان سوم غزل 1062
وہ دل نہیں رہا ہے تعب جو اٹھائے گا
یا لوہو اشک خونی سے منھ پر بہائے گا
اب یہ نظر پڑے ہے کہ برگشتہ وہ مژہ
کاوش کرے گی ٹک بھی تو سنبھلا نہ جائے گا
کھینچا جو میں وہ ساعد سیمیں تو کہہ اٹھا
بس بس کہیں ہمیں ابھی صاحب غش آئے گا
ریجھے تو اس کے طور پہ مجلس میں شیخ جی
پھر بھی ملا تو خوب سا ان کو رجھائے گا
جلوے سے اس کے جل کے ہوئے خاک سنگ و خشت
بیتاب دل بہت ہے یہ کیا تاب لائے گا
ہم رہ چکے جو ایسے ہی غم میں کھپا کیے
معلوم جی کی چال سے ہوتا ہے جائے گا
اڑ کر لگے ہے پائوں میں زلف اس کی پیچ دار
بازی نہیں یہ سانپ جو کوئی کھلائے گا
اڑتی رہے گی خاک جنوں کرتی دشت دشت
کچھ دست اگر یہ بے سر و ساماں بھی پائے گا
درپے ہے اب وہ سادہ قراول پسر بہت
دیکھیں تو میر کے تئیں کوئی بچائے گا
میر تقی میر