یا تن آدمی میں دل نہ بنایا ہوتا

دیوان دوم غزل 719
عشق کو بیچ میں یارب تو نہ لایا ہوتا
یا تن آدمی میں دل نہ بنایا ہوتا
دل نہ تھا ایسی جگہ جس کی نہ سدھ لیجے کبھو
اجڑی اس بستی کو پھر تونے بسایا ہوتا
عزت اسلام کی کچھ رکھ لی خدا نے ورنہ
زلف نے تیری تو زنار بندھایا ہوتا
گھر کے آگے سے ترے نعش گئی عاشق کی
اپنے دروازے تلک تو بھی تو آیا ہوتا
جو ہے سو بے خود رفتار ہے تیرا اے شوخ
اس روش سے نہ قدم تونے اٹھایا ہوتا
اب تو صد چند ستم کرنے لگے تم اے کاش
عشق اپنا نہ تمھیں میں نے جتایا ہوتا
دل سے خوش طرح مکاں پھر بھی کہیں بنتے ہیں
اس عمارت کو ٹک اک دیکھ کے ڈھایا ہوتا
دل پہ رکھتا ہوں کبھو سر سے کبھو ماروں ہوں
ہاتھ پائوں کو نہ میں تیرے لگایا ہوتا
کم کم اٹھتا وہ نقاب آہ کہ طاقت رہتی
کاش یک بار ہمیں منھ نہ دکھایا ہوتا
میر اظہار محبت میں گیا جی نہ ترا
ہائے نادان بہت تونے چھپایا ہوتا
میر تقی میر