یاں کام جا چکا ہے اب اختیار سے بھی

دیوان چہارم غزل 1489
اے کاش کوئی جاکر کہہ آوے یار سے بھی
یاں کام جا چکا ہے اب اختیار سے بھی
تاچند بے دماغی کب تک سخن خشن ہو
کوئی تو بات کریے اخلاص پیار سے بھی
یک معنی شگفتہ سو رنگ بندھ گئے ہیں
الوان گل ہیں ہر سو اب کے بہار سے بھی
کیا جیب و آستیں ہی سیلاب خیز ہے یاں
دریا بہا کریں ہیں میرے کنار سے بھی
باغ وفا سے ہم نے پایا سو پھل یہ پایا
سینے میں چاک تر ہے دل اب انار سے بھی
راہ اس کی برسوں دیکھی آنکھیں غبار لائیں
نکلا نہ کام اپنا اس انتظار سے بھی
جان و جہاں سے گذرا میں میر جن کی خاطر
بچ کر نکلتے ہیں وے میرے مزار سے بھی
میر تقی میر