یاں پھر اگر آئوں گا سید نہ کہائوں گا

دیوان چہارم غزل 1321
در پر سے ترے اب کے جائوں گا تو جائوں گا
یاں پھر اگر آئوں گا سید نہ کہائوں گا
یہ نذر بدی ہے میں کعبے سے جو اٹھنا ہو
بت خانے میں جائوں گا زنار بندھائوں گا
آزار بہت کھینچے یہ عہد کیا ہے اب
آئندہ کسو سے میں دل کو نہ لگائوں گا
سرگرم طلب ہوکر کھویا سا گیا آپھی
کیا جانیے پائوں گا یا اس کو نہ پائوں گا
گو میر ہوں چپکا سا پر طرفہ ہنرور ہوں
بگڑے گا نہ ٹک وہ تو سو باتیں سنائوں گا
میر تقی میر