یاں دکانیں ہیں کئی چاک گریبانوں کی

دیوان اول غزل 461
ہے یہ بازار جنوں منڈی ہے دیوانوں کی
یاں دکانیں ہیں کئی چاک گریبانوں کی
کیونکے کہیے کہ اثر گریۂ مجنوں کو نہ تھا
گرد نمناک ہے اب تک بھی بیابانوں کی
یہ بگولہ تو نہیں دشت محبت میں سے
جمع ہو خاک اڑی کتنے پریشانوں کی
خانقہ کا تو نہ کر قصد ٹک اے خانہ خراب
یہی اک رہ گئی ہے بستی مسلمانوں کی
سیل اشکوں سے بہے صر صر آہوں سے اڑے
مجھ سے کیا کیا نہ خرابی ہوئی ویرانوں کی
دل و دیں کیسے کہ اس رہزن دلہا سے اب
یہ پڑی ہے کہ خدا خیر کرے جانوں کی
کتنے دل سوختہ ہم جمع ہیں اے غیرت شمع
کر قدم رنجہ کہ مجلس ہے یہ پروانوں کی
سرگذشتیں نہ مری سن کہ اچٹتی ہے نیند
خاصیت یہ ہے مری جان ان افسانوں کی
میکدے سے تو ابھی آیا ہے مسجد میں میر
ہو نہ لغزش کہیں مجلس ہے یہ بیگانوں کی
میر تقی میر