یار بن لگتا نہیں جی کاشکے ہم مر رہیں

دیوان سوم غزل 1179
جائیں تو جائیں کہاں جو گھر رہیں کیا گھر رہیں
یار بن لگتا نہیں جی کاشکے ہم مر رہیں
دل جو اکتاتا ہے یارب رہ نہیں سکتے کہیں
کیا کریں جاویں کہاں گھر میں رہیں باہر رہیں
وہ نہیں جو تیغ سے اس کی گلا کٹوائیے
تنگ آئے ہیں بہت اب آپھی جوہو کر رہیں
بے دماغی بے قراری بے کسی بے طاقتی
کیا جیے وہ جس کے جی کو روگ یہ اکثر رہیں
مضطرب ہو ایک دو دم تو تدارک بھی ہو کچھ
متصل تڑپے ہے کب تک ہاتھ لے دل پر رہیں
زندگی دوبھر ہوئی ہے میر آخر تاکجا
دل جگر جلتے رہیں آنکھیں ہماری تر رہیں
میر تقی میر