یاد میں اس خود رو گل تر کی کیسے کیسے بولیں ہیں

دیوان چہارم غزل 1450
صبح ہوئی گلزار کے طائر دل کو اپنے ٹٹولیں ہیں
یاد میں اس خود رو گل تر کی کیسے کیسے بولیں ہیں
باغ میں جو ہم دیوانے سے جا نکلیں ہیں نالہ کناں
غنچے ہو ہو مرغ چمن کے ساتھ ہمارے ہولیں ہیں
یار ہمارا آساں کیا کچھ سینہ کشادہ ہم سے ملا
خون کریں ہیں جب دل کو وے بند قبا کے کھولیں ہیں
مینھ جو برسے ہے شدت سے دیکھ اندھیری کیا ہے یہ
یعنی تنگ جو ہم آتے ہیں دل کو کھول کے رولیں ہیں
وہ دھوبی کا کم ملتا ہے میل دل اودھر ہے بہت
کوئی کہے اس سے ملتے میں تجھ کو کیا ہم دھولیں ہیں
سرو تو ہے سنجیدہ لیکن پیش مصرع قد یار
ناموزوں ہی نکلے ہے جب دل میں اپنے تولیں ہیں
مرگ کا وقفہ اس رستے میں کیا ہے میر سمجھتے ہو
ہارے ماندے راہ کے ہیں ہم لوگ کوئی دم سولیں ہیں
میر تقی میر