ہے یار بھی ہمارا قیامت ستم ظریف

دیوان پنجم غزل 1655
ہنستے ہی ہنستے مار رکھا تھے جو ہم ظریف
ہے یار بھی ہمارا قیامت ستم ظریف
میر تقی میر