ہے میر کام میرے تئیں اپنے کام سے

دیوان اول غزل 564
گو ننگ اس کو آوے ہے عاشق کے نام سے
ہے میر کام میرے تئیں اپنے کام سے
درد صفر ہی خوب پئیں جس میں صاف مے
کیا میکشوں کو اول ماہ صیام سے
صیاد عرض حال کروں اور تجھ سے کیا
ظاہر ہے اضطراب مرا زیر دام سے
پڑھتے نہیں نماز جنازے پر اس کے میر
دل میں غبار جس کے ہو خاک امام سے
میر تقی میر