ہے معلوم کہ عالم عالم پھر یاں وہ جاری ہے فیض

دیوان پنجم غزل 1640
عالم علم سے اس عالم میں ہر لحظہ طاری ہے فیض
ہے معلوم کہ عالم عالم پھر یاں وہ جاری ہے فیض
سنگ و شجر ہیں پانی پون ہیں غنچہ و گل ہیں بارو بر
عالم ہژدہ ہزار جو ہیں یہ سب میں وہ ساری ہے فیض
میر تقی میر