ہے ختم اس آبلے پر سیر و سفر ہمارا

دیوان اول غزل 101
دیر و حرم سے گذرے اب دل ہے گھر ہمارا
ہے ختم اس آبلے پر سیر و سفر ہمارا
پلکوں سے تیری ہم کو کیا چشم داشت یہ تھی
ان برچھیوں نے بانٹا باہم جگر ہمارا
دنیا و دیں کی جانب میلان ہو تو کہیے
کیا جانیے کہ اس بن دل ہے کدھر ہمارا
ہیں تیرے آئینے کی تمثال ہم نہ پوچھو
اس دشت میں نہیں ہے پیدا اثر ہمارا
جوں صبح اب کہاں ہے طول سخن کی فرصت
قصہ ہی کوئی دم کو ہے مختصر ہمارا
کوچے میں اس کے جاکر بنتا نہیں پھر آنا
خون ایک دن گرے گا اس خاک پر ہمارا
ہے تیرہ روز اپنا لڑکوں کی دوستی سے
اس دن ہی کو کہے تھا اکثر پدر ہمارا
سیلاب ہر طرف سے آئیں گے بادیے میں
جوں ابر روتے ہو گا جس دم گذر ہمارا
نشوونما ہے اپنی جوں گردباد انوکھی
بالیدہ خاک رہ سے ہے یہ شجر ہمارا
یوں دور سے کھڑے ہو کیا معتبر ہے رونا
دامن سے باندھ دامن اے ابرتر ہمارا
جب پاس رات رہنا آتا ہے یاد اس کا
تھمتا نہیں ہے رونا دو دو پہر ہمارا
اس کارواں سرا میں کیا میر بار کھولیں
یاں کوچ لگ رہا ہے شام و سحر ہمارا
میر تقی میر