ہیں فن عشق کے بھی مشکل بہت دقائق

دیوان چہارم غزل 1418
دل کا مطالعہ کر اے آگہ حقائق
ہیں فن عشق کے بھی مشکل بہت دقائق
چھاتی جلوں کے آگے کھنچتا ہے بیشتر دل
ایک آشنا ہے مجھ سے اس باغ میں شقائق
ہے راستی کہ انساں مشتق ہے انس ہی سے
بیماری دوستی کی ہے دشمن خلائق
جی سارے تن کا کھنچ کر آنکھوں میں آرہا ہے
کس مرتبے میں ہم بھی ہیں دیکھنے کے شائق
کل میرجی نے ضائع اپنے تئیں کیا ہے
یہ کام تھا نہ ان کی شائستگی کے لائق
میر تقی میر