ہو گئی عید تو گلے نہ ملا

دیوان دوم غزل 763
عید آئندہ تک رہے گا گلا
ہو گئی عید تو گلے نہ ملا
ڈوبے لوہو میں دیکھتے سرخار
حیف کوئی بھی آبلہ نہ چھلا
ابر جاتا رہا رہیں بوندیں
اب تو ساقی مجھے شراب پلا
میر افسردہ دل چمن میں پھرا
غنچۂ دل کہیں نہ اس کا کھلا
میر تقی میر