ہو چہرہ اس کے لب سے یاقوت ناب کیونکر

دیوان پنجم غزل 1615
لاوے جھمکتے رخ کی آئینہ تاب کیونکر
ہو چہرہ اس کے لب سے یاقوت ناب کیونکر
ہے شعر و شاعری گو کب سے شعار اپنا
حرف و سخن سے کریے اب اجتناب کیونکر
جوں ابر اگر نہ روویں وادی و کوہ پر ہم
تو شہروں شہروں آوے نہروں میں آب کیونکر
اب بھی نہیں ہے ہم کو اے عشق ناامیدی
دیکھیں خراب ہووے حال خراب کیونکر
اڑ اڑ کے جا لگے ہے وہ تیر مار کاکل
کھاتا رہے نہ افعی پھر پیچ تاب کیونکر
چشمے محیط سے جو ہووے نہ چشم تر کے
تو سیر ہو ہوا پر پھیلے سحاب کیونکر
اب تو طپش نے دل کی اودھم مچا رکھا ہے
تسکین پاوے دیکھوں یہ اضطراب کیونکر
رو چاہیے ہے اس کے در پر بھی بیٹھنے کو
ہم تو ذلیل اس کے ہوں میر باب کیونکر
میر تقی میر