ہو خجل ایسی کہ منھ اپنا نہ پھر دکھلائے شمع

دیوان دوم غزل 831
تیرے ہوتے شام کو گر بزم میں آجائے شمع
ہو خجل ایسی کہ منھ اپنا نہ پھر دکھلائے شمع
کیا جلے جاتے ہیں تجھ سے سب دیے سے دیکھتے
گر یہی یاں کا ہے ڈھب تو حیف مجلس وائے شمع
کس کے تیں ہوتا ہے قطع زندگانی کا یہ شوق
سر کٹانے کو گلے میں جمع ہیں رگ ہاے شمع
کچھ نہیں مجھ میں درونے کی جلن سے اس طرح
کھا چلا ہے جیسے اک ہی داغ سر تا پاے شمع
داغ ہوکر جان دی ان نے تمھارے واسطے
مشت خاک میر پر سو تم نہ لے کر آئے شمع
میر تقی میر