ہو جو زخمی کبھو برہم زدن مژگاں کا

دیوان اول غزل 86
کیا عجب پل میں اگر ترک ہو اس سے جاں کا
ہو جو زخمی کبھو برہم زدن مژگاں کا
اٹھتے پلکوں کے گرے پڑتے ہیں لاکھوں آنسو
ڈول ڈالا ہے مری آنکھوں نے اب طوفاں کا
جلوئہ ماہ تہ ابر تنک بھول گیا
ان نے سوتے میں دوپٹے سے جو منھ کو ڈھانکا
لہو لگتا ہے ٹپکنے جو پلک ماروں ہوں
اب تو یہ رنگ ہے اس دیدئہ اشک افشاں کا
ساکن کو کو ترے کب ہے تماشے کا دماغ
آئی فردوس بھی چل کر نہ ادھر کو جھانکا
اٹھ گیا ایک تو اک مرنے کو آبیٹھے ہے
قاعدہ ہے یہی مدت سے ہمارے ہاں کا
کار اسلام ہے مشکل ترے خال و خط سے
رہزن دیں ہے کوئی دزد کوئی ایماں کا
چارئہ عشق بجز مرگ نہیں کچھ اے میر
اس مرض میں ہے عبث فکر تمھیں درماں کا
میر تقی میر