ہوکے فقیر گلی میں کسو کی رنج اٹھائو جا بیٹھو

دیوان چہارم غزل 1479
جی کی لاگ بلا ہے کوئی دل جینے سے اٹھا بیٹھو
ہوکے فقیر گلی میں کسو کی رنج اٹھائو جا بیٹھو
کیا دیکھو ہو آگا پیچھا عشق اگر فی الواقع ہے
ایک دم اس بے چشم و رو کی تیغ تلے بھی جا بیٹھو
ایک سماں تھا وصل کا اس کے سیج پہ سوئے پھولوں کی
اب ہے زمان فراق بچھونے خار و خسک کے بچھا بیٹھو
کام کی صورت اپنے پیارے کیا بگڑی ہے کیا کہیے
آئو کبھو مدت میں یاں تو اچھے منھ کو بنا بیٹھو
ٹیڑھی چال سے اس کی خائف چپکے کھڑے کیا پھرتے ہو
سیدھی سیدھی دوچار اس کو جرأت کرکے سنا بیٹھو
ٹیڑھی بھویں دشمن پہ کرو ہو عشق و ہوس میں تمیز کرو
یعنی تیغ ستم ایک اس کو چلتے پھرتے لگا بیٹھو
نکلا خط پشت لب اس کا خضر و مسیحا مرنے لگے
سوچتے کیا ہو میر عبث اب زہر منگا کر کھا بیٹھو
میر تقی میر