ہوکے عاشق بہت میں پچھتایا

دیوان دوم غزل 757
دل گیا مفت اور دکھ پایا
ہوکے عاشق بہت میں پچھتایا
مر گئے پر بھی سنگ سار کیا
نخل ماتم مرا یہ پھل لایا
صحن میں میرے اے گل مہتاب
کیوں شگوفہ تو کھلنے کا لایا
یہ شب ہجر ہے کھڑی نہ رہے
ہو سفیدی کا جس جگہ سایا
جب سے بے خود ہوا ہوں اس کو دیکھ
آپ میں میر پھر نہیں آیا
میر تقی میر