ہونٹ پر رنگ پان ہے گویا

دیوان دوم غزل 699
غنچہ ہی وہ دہان ہے گویا
ہونٹ پر رنگ پان ہے گویا
میرے مردے سے بھی وہ چونکے ہے
اب تلک مجھ میں جان ہے گویا
چاہیے جیتے گذرے اس کا نام
منھ میں جب تک زبان ہے گویا
سربسر کیں ہے لیک وہ پرکار
دیکھو تو مہربان ہے گویا
حیرت روے گل سے مرغ چمن
چپ ہے یوں بے زبان ہے گویا
مسجد ایسی بھری بھری کب ہے
میکدہ اک جہان ہے گویا
جائے ہے شور سے فلک کی طرف
نالۂ صبح بان ہے گویا
بسکہ ہیں اس غزل میں شعر بلند
یہ زمین آسمان ہے گویا
وہی شور مزاج شیب میں ہے
میر اب تک جوان ہے گویا
میر تقی میر