ہوتے ہیں یہ لوگ بھی کتنے پریشاں اختلاط

دیوان اول غزل 243
سب سے آئینہ نمط رکھتے ہیں خوباں اختلاط
ہوتے ہیں یہ لوگ بھی کتنے پریشاں اختلاط
تنگ آیا ہوں میں رشک تنگ پوشی سے تری
اس تن نازک سے یہ جامے کو چسپاں اختلاط
میر تقی میر