ہوتا تھا اگلے لوگوں میں بھی باہم اختلاط

دیوان دوم غزل 830
کرتے نہیں ہیں اس سے نیا کچھ ہم اختلاط
ہوتا تھا اگلے لوگوں میں بھی باہم اختلاط
ٹک گرم میں ملوں تو مجھی سے ملے خنک
اوروں سے تو وہی ہے اسے ہر دم اختلاط
ایسا نہ ہو کہ شیخ دغا دیوے ہم نشیں
ابلیس سے کرے ہے کوئی آدم اختلاط
بیگانگی مجھی سے چلی جاتی ہے خصوص
رکھتا ہے یوں تو یار سے اک عالم اختلاط
کس طور اتفاق پڑی صحبت اس سے دیر
ہے میر بے دماغ و قیامت کم اختلاط
میر تقی میر