ہوا کاغذ نمط گو رنگ تیرا زرد کیا حاصل

دیوان چہارم غزل 1426
غم مضموں نہ خاطر میں نہ دل میں درد کیا حاصل
ہوا کاغذ نمط گو رنگ تیرا زرد کیا حاصل
ہوئے صید زبوں ہم منتظر ہی خاک جی دے کر
سواری سے کسو کی گو اٹھی اب گرد کیا حاصل
بلا ہے سوزسینہ میر لوں ہوجائے گی جل کر
اگر دل سے اٹھی تیرے یہ آہ سرد کیا حاصل
میر تقی میر