ہم کنج قفس میں ہیں دل سینوں میں جلتے ہیں

دیوان سوم غزل 1191
کہتے ہیں بہار آئی گل پھول نکلتے ہیں
ہم کنج قفس میں ہیں دل سینوں میں جلتے ہیں
اب ایک سی بیہوشی رہتی نہیں ہے ہم کو
کچھ دل بھی سنبھلتے ہیں پر دیر سنبھلتے ہیں
وہ تو نہیں اک چھینٹا رونے کا ہوا گاہے
اب دیدئہ تر اکثر دریا سے ابلتے ہیں
ان پائوں کو آنکھوں سے ہم ملتے رہے جیسا
افسوس سے ہاتھوں کو اب ویسا ہی ملتے ہیں
کیا کہیے کہ اعضا سب پانی ہوئے ہیں اپنے
ہم آتش ہجراں میں یوں ہی پڑے گلتے ہیں
کرتے ہیں صفت جب ہم لعل لب جاناں کی
تب کوئی ہمیں دیکھے کیا لعل اگلتے ہیں
گل پھول سے بھی اپنے دل تو نہیں لگتے ٹک
جی لوگوں کے بے جاناں کس طور بہلتے ہیں
ہیں نرم صنم گونہ کہنے کے تئیں ورنہ
پتھر ہیں انھوں کے دل کاہے کو پگھلتے ہیں
اے گرم سفر یاراں جو ہے سو سر رہ ہے
جو رہ سکو رہ جائو اب میر بھی چلتے ہیں
میر تقی میر