ہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی

دیوان اول غزل 440
یکسو کشادہ روئی پرچیں نہیں جبیں بھی
ہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی
آنسو تو تیرے دامن پونچھے ہے وقت گریہ
ہم نے نہ رکھی منھ پر اے ابر آستیں بھی
کرتا نہیں عبث تو پارہ گلو فغاں سے
گذرے ہے پار دل کے اک نالۂ حزیں بھی
ہوں احتضار میں میں آئینہ رو شتاب آ
جاتا ہے ورنہ غافل پھر دم تو واپسیں بھی
سینے سے تیر اس کا جی کو تو لیتا نکلا
پر ساتھوں ساتھ اس کے نکلی اک آفریں بھی
ہر شب تری گلی میں عالم کی جان جا ہے
آگے ہوا ہے اب تک ایسا ستم کہیں بھی
شوخی جلوہ اس کی تسکین کیونکے بخشے
آئینوں میں دلوں کے جو ہے بھی پھر نہیں بھی
گیسو ہی کچھ نہیں ہے سنبل کی آفت اس کا
ہیں برق خرمن گل رخسار آتشیں بھی
تکلیف نالہ مت کر اے درد دل کہ ہوں گے
رنجیدہ راہ چلتے آزردہ ہم نشیں بھی
کس کس کا داغ دیکھیں یارب غم بتاں میں
رخصت طلب ہے جاں بھی ایمان اور دیں بھی
زیر فلک جہاں ٹک آسودہ میر ہوتے
ایسا نظر نہ آیا اک قطعۂ زمیں بھی
میر تقی میر