ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے

دیوان دوم غزل 1047
کوفت سے جان لب پہ آئی ہے
ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے
لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر
شوق نے بات کیا بڑھائی ہے
آرزو اس بلند و بالا کی
کیا بلا میرے سر پہ لائی ہے
دیدنی ہے شکستگی دل کی
کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے
ہے تصنع کہ لعل ہیں وے لب
یعنی اک بات سی بنائی ہے
دل سے نزدیک اور اتنا دور
کس سے اس کو کچھ آشنائی ہے
بے ستوں کیا ہے کوہکن کیسا
عشق کی زور آزمائی ہے
جس مرض میں کہ جان جاتی ہے
دلبروں ہی کی وہ جدائی ہے
یاں ہوئے خاک سے برابر ہم
واں وہی ناز و خودنمائی ہے
ایسا موتیٰ ہے زندئہ جاوید
رفتۂ یار تھا جب آئی ہے
مرگ مجنوں سے عقل گم ہے میر
کیا دوانے نے موت پائی ہے
میر تقی میر