ہم نے کمر کو کھول رکھا ہے اپنی کمر تم کستے ہو

دیوان پنجم غزل 1715
تم کو ہم سے لاگ لگی ہے روتے ہیں تو ہنستے ہو
ہم نے کمر کو کھول رکھا ہے اپنی کمر تم کستے ہو
درج گوہر مال نہیں کچھ دیں در بستہ مصر اگر
تو بھی ایسی قیمت پر تم آگے ہمارے سستے ہو
رستے راہ میں دیکھ لیا ہے بستی میں سے نکلے تمھیں
کیا جانیں ہم روز و شب تم کیدھر رستے بستے ہو
ابر کرم کی راہ تکو اب رحمت حق پہ نظر رکھو
گوکہ تم اے مستاں مجرم اس غم سے دل خستے ہو
پیری میں بھی جواں رکھا ہے دختر تاک کی صحبت نے
یعنی پی پی مئے انگوری میر ہوئے کٹ مستے ہو
میر تقی میر