ہم نے کردی ہے خبر تم کو خبردار رہو

دیوان سوم غزل 1223
یہ سرا سونے کی جاگہ نہیں بیدار رہو
ہم نے کردی ہے خبر تم کو خبردار رہو
آپ تو ایسے بنے اب کہ جلے جی سب کا
ہم کو کہتے ہیں کہ تم جی کے تئیں مار رہو
لاگ اگر دل کو نہیں لطف نہیں جینے کا
الجھے سلجھے کسو کاکل کے گرفتار رہو
گرچہ وہ گوہرتر ہاتھ نہیں لگتا لیک
دم میں دم جب تئیں ہے اس کے طلبگار رہو
سارے بازار جہاں کا ہے یہی مول اے میر
جان کو بیچ کے بھی دل کے خریدار رہو
میر تقی میر