ہم نہ سمجھے بڑا تاسف ہے

دیوان سوم غزل 1295
دل عجب نسخۂ تصوف ہے
ہم نہ سمجھے بڑا تاسف ہے
آپ ہی صرف عشق ہوجانا
یہ بھی درویش کا تصرف ہے
منھ ادھر کر کے وہ نہیں سوتا
خواب میں آوے تو تلطف ہے
یاں تو تکلیف سی کھنچی تکلیف
واں وہی اب تلک تکلف ہے
چھیڑ اس شوخ نے رکھی ہم سے
عہد پر عہد ہے تخلف ہے
مرگ کیا منزل مراد ہے میر
یہ بھی اک راہ کا توقف ہے
میر تقی میر