ہم سینہ خستہ لوگوں سے بس آنکھ مت لگائو

دیوان سوم غزل 1237
سب کھا گئے جگر تری پلکوں کے کاو کاو
ہم سینہ خستہ لوگوں سے بس آنکھ مت لگائو
آنکھوں کا جھڑ برسنے سے ہتھیا کے کم نہیں
پل مارتے ہے پیش نظر ہاتھی کا ڈبائو
کشتی چشم ڈوبی رہی بحر اشک میں
آئی نہ پار ہوتی نظر عاشقوں کی نائو
سینے کے اپنے زخم سے خاطر ہو جمع کیا
دل ہی کی اور پاتے ہیں سب لوہو کا بہائو
بیتابی دل افعی خامہ نے کیا لکھی
کاغذ کو شکل مار سراسر ہے پیچ تائو
ہرچند جانیں جاتی ہیں پر تیغ جور سے
تم کو ہمارے سر کی سوں تم ہاتھ مت اٹھائو
سر نیچے ہو تو پاؤں ترا دابیں ہم کبھی
دبتا وہی ہے جس کے تئیں کچھ بھی ہو دبائو
چاک قفس سے آنکھیں لگیں کب تلک رہیں
اک برگ گل نسیم ہماری طرف بھی لائو
غیرت کا عشق کی ہے طریقہ ہی کچھ جدا
اس کی گلی کی خضرؑ کو بھی راہ مت بتائو
ظاہر ہیں دیکھنے سے گنہ کیونکہ تیرے سب
چھپتے ہیں میر کوئی دلوں کے کہیں لگائو
میر تقی میر