ہم جو فقیر ہوئے تو ہم نے پہلے ترک سوال کیا

دیوان چہارم غزل 1337
خوب کیا جو اہل کرم کے جود کا کچھ نہ خیال کیا
ہم جو فقیر ہوئے تو ہم نے پہلے ترک سوال کیا
روند کے جور سے ان نے ہم کو پائوں حنائی اپنے کیے
خون ہمارا بسمل گہ میں کن رنگوں پامال کیا
نکلے ہے گر گھاس جلی بھی خاک سے الفت کشتوں کی
یہ بالیدہ سپہر پھرے ہے گویا ان نے نہال کیا
دل جو ہمارا خون ہوا تھا رنج و الم میں گذری ہمیں
یعنی ماتم اس رفتہ کا ہم نے ماہ و سال کیا
میر سدا بے حال رہو ہو مہر و وفا سب کرتے ہیں
تم نے عشق کیا سو صاحب کیا یہ اپنا حال کیا
میر تقی میر