ہم تو بشر ہیں اس جا پر جلتے ہیں ملک کے

دیوان اول غزل 529
مشکل ہے ہونا روکش رخسار کی جھلک کے
ہم تو بشر ہیں اس جا پر جلتے ہیں ملک کے
مرتا ہے کیوں تو ناحق یاری برادری پر
دنیا کے سارے ناتے ہیں جیتے جی تلک کے
کہتے ہیں گور میں بھی ہیں تین روز بھاری
جاویں کدھر الٰہی مارے ہوئے فلک کے
لاتے نہیں نظر میں غلطانی گہر کو
ہم معتقد ہیں اپنے آنسو ہی کی ڈھلک کے
کل اک مژہ نچوڑے طوفان نوح آیا
فکر فشار میں ہوں میر آج ہر پلک کے
میر تقی میر