ہم تو اس بن داغ ہی تھے سو اور بھی جل کر کھائے گل

دیوان پنجم غزل 1672
رنگارنگ چمن میں اب کے موسم گل میں آئے گل
ہم تو اس بن داغ ہی تھے سو اور بھی جل کر کھائے گل
ہار گلے کے ہوکر جیسے یاد رکھا تب عرصے میں
طرفہ تو یہ ہے اب منت سے گور پہ میری لائے گل
آئے شب گل میر ہمیں کیا صبح بہار سے کیا حاصل
داغ جنوں ہے سر پہ ہمارے شمع کے رنگوں چھائے گل
میر تقی میر