ہمیں عشق ہے تو اثر کر رہے گا

دیوان سوم غزل 1083
کبھو وہ توجہ ادھر کر رہے گا
ہمیں عشق ہے تو اثر کر رہے گا
ہمارا ہے احوال حیرت کی جاگہ
جو دیکھے گا وہ بھی نظر کر رہے گا
نہیں اس طرف میر جانے سے رہتا
رہے گا تو اودھر ہی مر کر رہے گا
میر تقی میر