ہمیشہ آگ ہی برسے ہے یاں ہوا ہے گرم

دیوان اول غزل 283
حذر کہ آہ جگر تفتگاں بلا ہے گرم
ہمیشہ آگ ہی برسے ہے یاں ہوا ہے گرم
ہزار حیف کہ درگیر صحبت اس سے نہیں
جگر کی آگ نے ہنگامہ کر رکھا ہے گرم
کہاں ہے تیغ و سپر آفتاب کی بارے
وہ سرد مہر ہمارا بھی اب ہوا ہے گرم
نہ اتنی دارو پی ظالم کہ اس خمار میں ہوں
مزاج گرم ہے پھر اور یہ دوا ہے گرم
گیا جہان سے خورشید ساں اگرچہ میر
ولیک مجلس دنیا میں اس کی جا ہے گرم
میر تقی میر